Pehla Deebacha
May 11, 2007 on 9:56 pm | In Mussadis Hali | No Commentsپہلا دیباچہ
١٢٩٤ ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامد اً و مصلیاً
بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی
جب سے دل زندہ تو نے ہم کو چھوڑا ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی
بچپن کا زمانہ جو کہ حقیقت میں دنیا کی باشاہت کا زمانہ ہے ایک ایسے دلچسپ اور پر فضا میدان میں گزارا جو کلفت کے گردوغبار سے بالکل پاک تھا ۔ نہ وہاں ریت کے ٹیلے تھے ، نہ کاردار جھاڑیا تھیں ، نہ آندھیوں کے طوفان تھے ، نہ باد سموم کی لپٹ تھی۔
جب اس میدان سے کھیلتے کودتے آگے بڑھے تو ایک اور صحرا اس سے بھی زیادہ دلفریب نظر آیا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں ولولے اور لاکھوں امنگیں خود بخود دل میں پیدا ہوگئیں ۔ مگر یہ صحرا جس قدر نشاط انگیز تھا ۔ اس کی سر سبز جھاڑیوں میں ہولناک درندے چھپے ہوئے تھے اور اس کے خوشنما پودوں پر سانپ اور بچھو لپٹے ہوئے تھے۔ جونہی اس کی حد میں قدم رکھا ہر گوشہ سے شیر و پلنگ اور مارو کژ دم نکلے آئے ۔ باغ جوانی کی بہات اگر چہ قابل دید تھی مگر دنیا کی مکروہات سے دم لینے کی فرصت نہ ملی، نہ خود آرائی کا خیال آیا، نہ عشق و جوانی کی ہوا لگی ، نہ وصل کی لذت اٹھائی ، نہ فراق کا مزا چکھا۔
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^